تصاویر

Login

Online Users

None



انتخاب حدیث PDF Print E-mail
اسلامیات
Monday, 09 November 2009 18:29

فہم و دانائی

  تحریر: مولانا عبدالغفار حسن عمرپوری

193۔ ”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے اسلام میں بہتر وہ ہیں جو اخلاق میں زیادہ اچھے ہیں جبکہ وہ (دین میں) سمجھ رکھتے ہوں۔

194۔ ”حضرت ابو سعید انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیلئے کھڑے ہوتے وقت (صفیں سیدھی کرنے کیلئے) ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے:

”برابر ہو جاﺅ (صف بندی میں) انتشار و اختلاف نہ پیدا کرو، ورنہ تمہارے دلوں میں بھی پھوٹ پڑ جائیگی۔ تم میں سے جو عقل و فہم والے ہیں وہ مجھ سے قریب رہیں، پھر جو ان سے قریب ہیں، پھر جو ان سے قریب ہیں۔“

یعنی عقل و فہم اور دینی شعور کے لحاظ سے جو لوگ ممتاز ہوں ان کو نماز میں امام سے قریب ہونا چاہیے۔ اس کے بعد درجہ بدرجہ لوگوں کی صف بندی کی جائے۔

195۔”حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، روزہ، زکوٰة، حج و عمرہ اور دوسری تمام نیکیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”انسان یہ سب کچھ کرتا ہے مگر قیامت کے دن عقل و فہم کے مطابق ہی اسے بدلہ ملے گا۔“ تشریح: انسان جس قدر شعور اور عقل و فہم کے ساتھ مراسم عبادت ادا کرے گا، اسی قدر وہ عبادت کے اصل مقصد سے باعبر رہے گا اسے وہ لذت حاصل ہو گی جو اللہ کے نیک بندوں کو اس موقع پرفی الواقع فرحت ومسرت سے ہم کنار کر دیتی ہے۔ اس مضمون کی تائید ذیل کی آیت سے ہوتی ہے: یعنی رحمان کے بندے وہ ہیں کہ جب ان کی رب کی آیتوں کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے تو وہ ان پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے، یعنی عقل و فہم سے کام لیتے ہیں اور سوچے سمجھ بغیر محض تقلیدی خوش اعتقادی کی بنا پر کسی حکم کی پیروی نہیںکرتے۔

196۔ ”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔“ تشریح: مومن اتنا ہو شیار اور چوکنا رہتا ہے کہ اگر کبھی ایک بار دھوکا کھا بھی جاتا ہے تو دوبارہ کسی کے فریب میں نہیں آتا۔ لیکن چونکہ وہ خدا کے خوف سے صرف حلال کمائی پر خواہ وہ کتنی قلیل مقدار میں کیوں نہ ہو قناعت کرتا ہے اور اس کے مقابلے میں حرام مال کا انبار بھی لگا ہو تو اس کی نگاہ نہیں اٹھتی۔ دنیادار اسے بیوقوت سمجھتے ہیں۔ اسی بناءپر بعض روایات میں مومن کو غرکریمہ۔ (شریف سادہ لوح) اور منافع کو خب لئیم (دھوکے باز کمینہ) کہا گیا ہے اور یہی معنی ہیں اس روایت کے جس میں آتا ہے: ان اہل الجنہ بلہ (بلا شبہ جنت والے سادہ لوح ہوتے ہیں۔)

197۔ ”ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاحب حلم (بردبار) وہی ہے جسے لغزشوں سے بھی سابقہ پڑتا ہے۔ اور حکیم و داناوہی ہے جو تجربہ بھی رکھتا ہے۔“

طہارت و نظافت

198۔ ”ابومالک اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طہارت و پاکیزگی ایمان کا نصف حصہ ہے۔“ تشریح: اسلام صرف روحانی اور اخلاقی طہارت وپاکیزگی ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس نے ظاہری صفائی، پاکیزگی اور سلیقہ شعاری کی بھی تاکید کی ہے۔ اس بنا پر اس روایت میں ظاہری طہارت و پاکیزگی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔

199۔ ”حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دایاں ہاتھ وضو اور کھانے پینے کیلئے استعمال فرماتے اور بائیں ہاتھ سے استنجا جیسے کاموں کو انجام دیتے۔“ تشریح: ماکان من اذی کا مطلب یہ ہے کہ ناک کا فضلہ اور اس قسم کے دوسرے مواقع پر آپ بائیں ہاتھ سے کام لیتے تھے اور اس کے برعکس پاکیزہ امور دائیں ہاتھ سے انجام پاتھے تھے۔

200۔ ”(بروایت عبداللہ بنؓ مغفل) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ ایک شخص غسل خانے میں پیشاب بھی کرے اور پھر وہیں غسل اور وضو میں مشغول ہو جائے۔“ تشریح: یعنی پیشاب کیلئے الگ جگہ ہونی چاہیے اور غسل کیلئے الگ۔ ورنہ اس بارے میں اگر بے احتیاطی برتی ہو تو طہارت و پاکیزگی کا معاملہ مشتبہ ہو کر رہ جاتا ہے۔

201۔ ”ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ آپ کو پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی۔ آپ ایک دیوارکی جڑ میں نرم جگہ پر پہنچے اور اپنی ضرورت پوری کی۔ پھرآپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پیشاب کرنے کا ارادہ کرے تو نرم جگہ تلاش کر لے۔

202۔ ”حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے فرمایا: ”اے عمرؓ! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو۔“ اس کے بعد میں نے کھڑے ہو کر کبھی بھی پیشاب نہیں کیا۔“ تشریح: کسی عذریا مجبوری کی بنا پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا جا سکتا ہے۔ ویسے عام حالات میں مذکورہ بالا حکم کی پابندی لازمی ہے۔

203۔”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے ایسا ہی شفیق ہوں جیسے باپ اپنی اولاد کیلئے۔ میں تعلیم دیتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی رفع حاجت کیلئے جائے تو نہ قبلہ کی طرف منہ کر۔ اور نہ پیٹھ۔ “ آپ نے تین پتھروں سے استنجا کرنے کی تاکیدکی اور لید، ہڈی سے منع فرمایا۔ نیز آپ نے اس بات سے روکا کہ انسان دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔

تشریح: (1) قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کرنے کے بارے میں فقہاءاور ائمہ دین میں اختلاف ہے۔ دلائل کے لحاظ سے امام شافعیؒ کا مسلک قوی معلوم ہوتا ہے۔ یعنی یہ حکم کھلی فضا (جنگل) کیلئے ہے۔ آبادی میں یہ پابندی نہیں ہے۔

(2) استنجا کی تین شکلیں ہیں: (الف) تین پتھر یا ڈھیلے استعمال کیے جائیں۔ (ب) پانی سے استنجا کیا جائے۔ (ج) مذکورہ بالا دونوں طریقوں کو جمع کر دیا جائے۔

204۔ ”حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”کھانا سامنے آگیا ہو تو پھر نماز نہیں ہے اور نہ اس حال میں کہ جب اسے پیشاب پاخانہ کی ضرورت محسوس ہو رہی ہو۔“ تشریح:

(1) بھوک لگ رہی ہو اور کھانا تیار ہو تو پہلے کھانے سے فارغ ہو لینا چاہیے تاکہ بعد میں پوری یک سوئی اور دل جمعی کے ساتھ نماز ادا کی جا سکے۔ ہاں اگر کھانے کی خواہش زیادہ نہ ہو تو نماز کا پہلے ادا کرلینا بہترہے۔

(2) حوائج ضروریہ کو روک کر نماز پڑھنا تو کسی شکل میں بھی مناسب نہیں ہے۔

205۔”(بروایت معاذؓ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین لعنت کے مقامات سے پرہیز کرو۔

(1) دریاﺅں کے گھاٹ۔

(2) عام راستہ۔

(3) سایہ کی جگہیں۔ یعنی ان تینوں مقامات پر رفع حاجت کرنے سے انسان خدا کے ہاں لعنت کا مستحق ہو جاتا ہے اس حکم میں حکمت کے دو پہلو معلوم ہوتے ہیں۔

(1) اس قسم کی بدتمیزی سے ذوق طہارت گھن کرتا ہے۔

(2) ایسے مقامات جہاں عام پبلک کی آمد و رفت رہتی ہو، رفع حاجت کیلئے بیٹھ جانا بے شرمی بھی ہے اور انتہائی خود غرضی کا ثبوت بھی۔

206۔”معاویہ بن قرہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو درختوں لہسن اور پیاز سے منع فرمایا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے: ”جو ان کو کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔“ پھر آپ نے فرمایا اگر ان کا کھانا ناگز ہو تو ان کو بوکو پکار کو ختم کر دینا چاہیے۔

“ تشریح: اسلام میں نفاست و طہارت اور اجتماعی آداب کا اتنا اہتمام کیا گیا ہے کہ ایسی اشیاءجن کو بو عام طور پر ناگوار ہوتی ہے ان کو کھا کر مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ اس حکم سے دو چیزیں معلوم ہوتی ہیں۔

(1) جن اشیاءکی بونا گوار حد تک ناپسندیدہ ہو ان کے کھانے اور استعمال سے پرویز کرنا چاہیے۔

(2) مجالس اور اجتماعی مواقع پر اس معاملہ میں اپنے ساتھیوں کا بھی لحاظ ہونا چاہیے۔

 

 

 

Add New
Comments
Write comment
Name:
Email:  
Website:
Title:
UBBCode:
[b] [i] [u] [url] [quote] [code] [img] 
 
:angry::0:confused::cheer:B):evil::silly::dry::lol::kiss::D:pinch::(:shock::X:side::):P:unsure::woohoo::huh::whistle:;):s:!::?::idea::arrow:
 
Please input the anti-spam code that you can read in the image.