|
بند وں کے حقوق : 1
تحریر: سید ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم ایک طرف شریعت نے انسان کو اپنے نفس اور جسم کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے تو دوسری طرف یہ بھی قید لگا دی ہے کہ ان حقوق کو ادا کرنے میں وہ کوئی ایسا طریقہ نہ اختیار کرے جس سے دوسرے لوگوں کے حقوق متاثر ہوں۔
کیونکہ اس طرح اپنی خواہشات اور ضرورتیں پوری کرنے سے انسان کا اپنا نفس بھی گندہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی طرح طرح کے نقصانات پہنچتے ہیں۔ چنانچہ شریعت نے چوری، لوٹ مار، رشوت، خیانت، سود خواری اور جعلسازی کو حرام کیا ہے کیونکہ ان ذرائع سے انسان جو کچھ بھی فائدہ اٹھاتا ہے وہ دراصل دوسروں کو بھی حرام کیا ہے کیونکہ یہ سب افعال دوسروں کیلئے نقصان رساں ہیں۔ جوئے، سٹے اور لاٹری کو بھی حرام کیا ہے کیونکہ اس میں ایک شخص کا فائدہ اور ایسے تمام تجارتی معاہدات کو بھی حرام کیا ہے جن میں کسی ایک فریق کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو، قتل اور فتنہ و فساد کو بھی حرام کیا ہے۔ کیونکہ ایک شخص کو اپنے کسی فائدے یا اپنی کسی خواہش کی تسکین کیلئے دوسروں کی جان لینے یا ان کو تکلیف پہنچانے کا حق نہیں ہے۔زنا اور عمل قوم لوط کوبھی حرام کیا ہے۔ کیونکہ یہ افعال ایک طرف خود اس شخص کی صحت کو خراب اور اسکے اخلاق کو گندہ کرتے ہیں جو ان کا ارتکاب کرتا ہے اور دوسری طرف اس سے تمام سوسائٹی میں بے حیائی اور بد اخلاقی پھیلتی ہے، گئی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، نسلیں خراب ہوتی ہیں، فتنے برپا ہوتے ہیں، انسانی تعلقات بگڑتے ہیں اور تہذیب و تمدن کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ یہ تو وہ پابندیاں ہیں جو شریعت نے اس غرض سے لگائی ہیں کہ ایک شخص اپنے نفس اور جسم کے حقوق ادا کرنے کیلئے دوسروں کے حقوق تلف نہ کرے۔ مگر انسانی تمہدن کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ ایک شخص کو نقصان نہ پہنچائے۔ بلکہ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں میں باہمی تعلقات اس طرح قائم کیے جائیں کہ وہ سب ایک دوسرے کی بہتری میں مدد گار ہوں۔ اس غرض کیلئے شریعت نے جو قوانین بنائے ہیں ان کا محض ایک خلاصہ ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔ انسانی تعلقات کی ابتداءخاندان سے ہوی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اس پر نظر ڈالو۔ خاندان دراصل اس مجموعہ کو کہتے ہیں جو شہر بیوی اور بچوں پر مشتمل ہوتا ہے اس کیلئے اسلامی قاعدہ یہ ہے کہ روزی کمانا اور خاندان کی ضروریات مہیا کرنا اور اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرنا مرد کا فرض ہے۔ اور عورت کا فرض یہ ہے کہ مرد جو کچھ کما کر لائے اس سے وہ گھر کا نتظام کرے، شوہر اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ آسائش بہم پہنچائے اور بچوں کی تربیت کرے اور بچوں کا فرض یہ ہے کہ ماں باپ کی اطاعت کریں، ان کا ادب ملحوظ رکھیں اور جب بڑے ہوں تو ان کی خدمت کریں۔ خاندان کے اس انتظام کو درست رکھنے کیلئے اسلام نے دو تدبیریں اختیار کی ہیںایک یہ کہ شوہر اور باپ کو گھر کا حاکم مقرر کر دیا ہے کیونکہ جس طرح ایک شہر کا انتظام ایک حاکم کے بغیر اور ایک مدرسہ کا انتظام ایک ہیڈ ماسٹر کے بغیر درست نہیںاسی طرح گھر کا نتظام بھی ایک حاکم کے بغیر درست نہیں رہ سکتا۔ جس گھر میں ہر ایک اپنی مرضی کا مختار ہو گا۔ اس کے گھر میں خواہ مخواہ افراتفری مچے گی آسائش اور خوشی نام کو نہ رہے گی۔ شوہر ایک طرف تشریف لے جائیں گے۔ بیوی دوسری طرف کا راستہ لے گی اور بچوں کی مٹی پلید ہو گی۔ ان سب خرابیوں کو دور کرنے کیلئے گھر کا ایک حاکم ہونا ضروری ہے اور وہ مرد دوسری تدبیریہ ہے کہ گھر سے باہر کے سب کاموں کا بوجھ مرد پر ڈال کر عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جائے۔ اس کو یرون خانہ کے فرائض سے اسی لیے سبکدوش کیا گیا ہے کہ وہ اندرون خانہ کے فرائض انجام دے اور اس کے باہر نکلنے سے گھر کی آسائش اور بچوں کی تربیت میں خلل نہ واقع ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں بالکل گھر سے باہر قدم ہی نہ نکالیں۔ ضرورت پیش آنے پر ان کو جانے کی اجازت ہے۔ مگر شریعت کا منشا یہ ہے کہ ان کے فرائض کا اصلی دائرہ ان کا گھر ہونا چاہیے اور ان کی قوت تمام تر گھر کی زندگی کو بہتر بنانے پر صرف ہونی چاہیے۔ خون کے رشتوں اور شادی بیاہ کے تعلقات سے خاندان کا دائرہ پھیلتا ہے۔ اس دائرے میں جو لوگ ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں ان کیلئے شریعت نے مختلف قاعدے مقرر کیے ہیں جو بڑی حکمتوں پر مبنی ہیں
|